Saturday, 15 April 2017



محمد زبیر
2k14/MC/67
حکومتِ سندھ کی وفاق پر چڑھائی

مہینوں سے جاری سندھ اور وفاق حکومت کے درمیان اختلافات جاری ہیں کبھی کسی معاملے پر سندھ حکومت ضد پکڑ لیتی ہے تو کبھی وفاق اڑ جاتا ہے مگر یہاں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وفاق صوبہ سندھ میں اپنی منمانی کر رہا ہے۔ حالانکہ 18ویں ترمیم کے بعدصوبے کو اپنے تمام تر فیصلے لینے کا حق حاصل ہے مگر نہ جانے کیوں وفاق سند ھ پر حملا آور ہو چکا ہے ۔معاملہ سندھ حکومت کے وزراء کا ہو یا رہنماؤں کی گمشدگی و گرفتاریوں کا ہو یا سندھ میں رینجرز کے حد سے زیادہ اختیار ت دینے کا یا پھر آئی ۔جی سندھ کی تعیناتی و تبادلے کا یہ دونوں ہر معاملے پر ایک دوسرے کے مخالف کھڑے نظر آتے ہیں۔پانی سے لے کر بجلی فنڈنگ سے لے کر اختیارات تک یہ دونوں کسی صورت ایک پیج پر آنے پر اتفاق نہیں کرتے۔

گذشتہ دنوں سندھ اسمبلی کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا وزیراعلی سند ھ سید مرا د علی شاہ نے اپنی تقرر میں وفاق پر چڑھائی شروع کر دی اور سندھ کے حقوق کا ایک نیا معاملہ عوام کی عدالت میں پیش کر دیا سندھ میں جا ری ایک نئے بجلی گھر کے افتتاح کے لئے سندھ کو گیس کی اشد ضرورت ہے اور وفاق ہے کہ سندھ کو گیس دینے کے حق میں نہیں ۔یہاں ایک بات ذہن نشین رکھنا لازمی ہے پاکستا ن کو 70فیصد گیس کی فراہمی کرنے والا صوبہ آج خود گیس کی طلبی کے لئے وفاق سے درخواست کر رہا ہے حالانکہ گیس پر صوبہ سندھ پر پہلا حق ہونا چاہیئے مگر اس صوبے کو ہی گیس کی فراہمی سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔

ویسے تو پاکستان میں روز سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوتا رہتا ہے کوئی کسی کا مخالف دوستی کا ہاتھ آگے بڑھتا ہے تو کسی کی دوستی ادھری رہ جاتی ہے اور ایسا ہی سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان ہوا وزیراعلی سندھ سید مراد عل شاہ نے وفاق کو براہ راست دھمکی دے ڈالی کہ اب اگر ہمیں ہمارے حقوق سے محروم رکھا گیا تو صوبے سے گزرنے والی گیس لائن بند کر دیں گئے اور سوئی سدرن کے دفتر پر دھبا بول کر وہاں کا کنٹرول سنبھال لیں گئے ۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے اس بیان کی حکومتی و اپوزیشن جماعتوں نے بھرپور حمایت لی اور اس معاملے پر وزیراعلی کے ہاتھ مضبوط کرنے کا عہد کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سیاسی اونٹ اب کس کروٹ بیٹھتا ہے کیا کوئی نئی ڈیل ہوتی ہے یا سند ھ کی غریب عوام کو وزیراعلی سندھ حقوق دلانے پر کامیاب ہوجاتے ہیں۔

Friday, 31 March 2017

حیدرآباد کے منفرد مقامات

کسی بھی شہر کی شناخت و خصوصیات اس کے علاقوں کے بغیر ممکن نہیں ویسے تو حیدرآباد کے کئ علاقے اپنی مثال آپ ہیں اور ان علاقوں کی خصوصیات کے تو کیا ہی کہنے۔حیدرآباد جہاں اپنی تھنڈی راتوں کی وجہ سےجانا پہچانا جاتا ہے وہیں شہر کے کئ علاقوں کی خصوصیات کا ردوبدل نہیں میں اپنے علاقے کی چند خصوصیات آپ کی نظر کر رہا ہوں ہمارے علاقے مین کئ سالوں سے ویران سڑک جہاں کچرے کے سواہ کچھ نا تھا  یے جگہ صرف 3 سال کے کم ترین عرصے میں اتنی مقبول ہو گئ کہ یہاں شہر بھر سے لوگ اپنی فیملی کے ساتھ زندگی کی چند اچھی یادیں جمع کرنے یہاں آنے لگے۔کچرے و گند کے لمبے لمبے ٹیلے جو اس جگہ کی پہچان تھے وہاں آج رات گئے چہل پہل ہوچکی ہے 3 سال پہلے 1 بلڈر نے لطیف آباد کے علاقے 11 نمبر سے گزرنے والے روڈ پر پلاٹنگ کا آغاز کیا کیوں کہ یے سڑک کوہسار ایئرپورٹ سے ملتی ہے تو اس کے اتراف ہریالی و پانی موجود ہوتا ہے ۔ جیسے ہی یہاں پلاٹگ کا کام شروع ہوا تو کسی علاقہ مکین نے اس روڈ کے ایک کنارے پر لمکا کا ٹھیلا لگا لیا شروع میں تو یہ جگہ اتنی مقبول نہ تھی اور نا ہی یہاں لوگ آیا کرتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ  یے جگہ کافی مقبول ہو گئ ہے۔

سورج ڈھلتے ہی یہاں بچے نوجوان بزرگ فیملیز یہاں آ کر ٹھنڈی ہوائوں سے محصور ہوتے اور یہاں سکون کی کچھ سانسیں لیتے ہیں اور آج یہاں لوگ جافی تعداد میں شہر کے دور دراز علاقوں سے تفریح کرنے یہاں آتے ہیں اور لمکا والے کا 10 روپے کا لمکا بھی لیتے ہیں اب اس لمکا والے کے بعد ہاتھ ملانے کی بھی فرست نہیں ہوتی۔

ہمارے علاقے میں موجود اس سماجی شخصیت کے نام سے منسلک گراونڈ جو کے لطیف آباد کا سب سے بڑا گرائونڈ ہے  اس کا نام افضال جو کے علاقے کی بہت مقبول سماجی شخصیت تھے ان کے نام پر رکھا گیا ہے آج سے 5 سال پہلے تک تو یہاں خانہ بدوشوں کا قبضہ ہوا کرتا تھا اور اس گراونڈ کی پہچان جھوپڑ پٹی میدان کے نام سے ہوتی تھی مگر شہر کی انتظامیہ کو ہوش آیا اور یہاں سے قبضہ چھڑایا اور میدان کے چاروں اطراف دیواریں بنا دیں۔کچھ ہی ماہ گزرے تھے کہ علاقے کے ایم پی اے نے اس گراونڈ کی تعمیر کے لیے اسمبلی سے فنڈ پاس کروایا۔علاقہ مکینوں کو پر فضا اور تفریحی ماحول کی فراہمی کے ساتھ ساتھ لطیف آباد میں کھیلوں کی سرگرمیاں بڑھانے میں بھی یہ گراونڈ مدد گار ثابت ہوا اور آج اس گراونڈ میں کرکٹ میدان کے ساتھ ساتھ فٹبال،بیڈمنٹن اور واکنگ ٹریک بنایا اور علاقے کے بچوں کو کھیلوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ایک اچھا اور صاف ماحول فراہم کیا ۔





ہمارے علاقے بلکہ لطیف آباد کے بہت سے علاقوں میں

فروخت کی جانے والی قلفی جو کہ بہت مشہور ہے اور یہ قلفی لطیف آباد کے کئ علاقوں میں فروخت کی جاتی ہے۔بندو قلفی کو 40 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے اور یہ قلفی ان کی 2 نسلوں سے چلتی آرہی ہے۔1 روپے سے شروع ہونے والی قلفی آج 50 روپے میں فروخت کی جاتی ہے اور اس کی مانگ میں دن بہ دن اضافہ ہوا ہے۔دور دراز سے لوگ اس قلفی سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں اور اپنی زبان کو اس کے منفرد ذائقے سے رنگتے ہیں۔

Tuesday, 28 February 2017

سعیدآباد کا سفر







سفر چاھے چھوٹا ہو یا بڑا مگر اس سفر کے دوران آنے والی پریشانیاں ایک طرف مگر گھر والوں سے ملنے کی خوشی ایک طرف جب میں اپنی یونیورسٹی سے اپنے گھر، جو کہ ضلع مٹیاری میں ہے اور نیو سعیدآباد کے نام سے جانا جاتا ہے یوں تو میں ہر ۱۵ سے ۲۰ دن میں ایک بار اپنے گھر والوں سے ملنے ضرور جاتا ہوں مگر اس بار انتحانات کی وجہ سے تین ماہ بعد گھر جا رہا تھا اس لیے گھر جانے کی بہت بے تابی تھی۔سفر تو میرا ڈیڑہ گھنٹے کا تھا مگر یہ لمحہ بھی کٹ نہں رہا تھا ، حیدرآباد کے بس اسٹاپ سے جب گھر کے سفر کا دور شروع ہوا وہ آج میں یوں بیان کر رہا ہوں۔

جب بھی حیدرآباد سے بس میں بیٹھا 
تو بہت مشکل ہوی کیوں کہ لوکل بس میں ۷۶ سیٹیں ہوتی ہیں اس کے باوجود بھی لوگ کھڑے ہو کر سفر کررہےتھے۔بس اسٹاپ سے نکلتی ہے اور حیدرآباد ہای وے پر آجاتی ہے اس کے بعد کنڈیکٹر مسافروں سے کرایہ وصول کرنا شروع کردیتا ہے۔میں نے کرایہ ادا کیا اور دیکھا کہ کنڈیکٹر ایک مسافر سے بے مقصد بحث کر راہا ہے مگر میں اس بات سے حیران نا تھا کیوں کہ مجھ اس بات کا علم تھا کہ یہ روز مرہ کا معمول تھا۔ایک مسافر نے بس میں بکری کو بھی چڑا دیا جس کی وجہ سے مسافروں کو مشکل کا سامنہ تھا۔کنڈیکٹر صاحب جب اس شخص کے پاس پہنچا تو اس نے اس مسافر کے ساتھ ساتھ اس بکری کا کرایہ بھی وصول کیا اور بس میں ایک شخص مرغیاں لے کر چڑھ گیا مرغیوں کی ٹانگیں ایسے باندہ رکھی تھی جیسے انہیں ابھی اس دنیا سے رخصت کیا جا رہا ہو اور ان کی گردنیں بس کے فرش پر رکھی تھی۔ان بکریوں اور مرغیوں کے مالکان کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے ان لوگوں نے کوئی بڑا جرم کیا ہو۔ ان لوگوں کی وجہ سے بس میں گندگی تو بہت ہو جاتی ہے مگر اس میں ان کا قصور نہیں۔یہ تو بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو ان افراد کو بٹھانے سے قبل سوچنا چاہیے کہ ان لوگوں کی وجہ سے دوسرے مسافروں کو تکلیف پہنچتی ہے تو یہ ایسے لوگوں کو بس میں سوار نہ کریں۔

ان سب حالات کے بعد بس اپنے مختلف راستے تے کرتے ہوے ضلع مٹیاری پہنچی کچھ لوگ اسٹاپ پر اترے اور اپنے گھر کی طرف چل دیے۔ مٹیاری کی خاص اور مشہور چیز وہاں کا ماوا ہے جو پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ بس کے باہر سے ماوا بیچنے والے افراد زور زور سے آوازیں لگا رہے تھے "مٹیاری کا مشہور ماوا کھایں" ۔
بس کی کھڑکی سے اپنی حیثیت کہ مطابق ان سے ماوا خرید رہے تھے تو لوگون کی دیکھا دیکھی میں نے بھی ماوا خرید لیا۔کچھ دیر بعد بس مٹیای شہر سے نکلی اور اگلی منزل کی طرف چل پڑی اور پھر خیبر پہنچ گی۔ مگر میں ان خیالات میں ہی گم تھا کہ کب میرا شہر اور گھر آے۔خیبر سے نکلنےکے بعد بس بھٹ شاہ پہنچی۔

اور بھٹ شاہ پہنچنے پر ایک الگ ہی سماہ دیکھنے کو ملتا ہے۔جب لوگ بس 
سے اترتے ہیں تو چنگچی رکشہ ایسے آتے ہیں جیسے وہ لوگوں پر ہی اتر دوڑیں گے۔ چند منٹ کے بعد ہی ہالا شہر آجاتا ہے جسے مخدوموں کا شہر بہی کہا جاتا ہے۔


جب وہاں کے اسٹاپ پر بس رکتی ہے تو میں ہر مرتبہ ایک ہی بات سوچتا ہوں کہ زیادہ لوگ نہ چڑہیں مگر ایسا نا ہوا جتنے لوگ بس سے اترے تھے اس سے زیادہ ہی لوگ بس میں چڑ پڑے اور ان کے ساتھ ساتھ مختلف چیزوں کے بیچنے والے بھی بس میں چڑ پڑے۔ہالا شہر سے نکلنےکے بعد بس دوبارہ ہائیوے پر آگئ اب میرے اندر ایسی بیچینی داخل ہو گئ کیوں کہ ہالا میرے شہر سے ۲۰ منٹ کے فاصلے پر تھا اب میں یہی سوچ رھا تھا کہ میں اپنے شہر میں داخل ہو جاوں اور اس بےچینی کے عالم سے نجات پائوں پھر میں کچھ دیر بعد سعیدآباد میں داخل ہو گیا ۔ سعیدآباد کہ بس اسٹاپ پر بس رکی اور میں خوشی خوشی اپنے گھر کو چل دیا۔


Wednesday, 15 February 2017

پولیس تھانے کا ماحول

 پاکستان میں موجود مختلف حکومتی اداروں پر نظر ڈالی جائے تو زیادہ تر ادارے میں ایک طوفان بد انتظامی ایکھائی دیتی ہے۔چاہے وہ سرکاری تعلیمی ادارے ہوں یا عوامی فلاح وبہبود کے ادارے ان تامم اداروں میں انتہا کی کرپشناور بد انتظامی یہاں کا علمیہ بن چکا ہے ۔ اس طریقے سے ایک اور ادارہ جو بنایا تو عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کو تھا ۔ لیکن علمیہ یہ ہے کی عوام اس سے اپنی جان و مال کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور اگر بد قسمتی سے کسی موقع پر انہیں مجبوراًتھا نے کا رخؒ کرنا پڑتا ہے تو انہیں ایک خطرناک کلچر دیکھنے کی ملتی ہے۔ جو کہ تھانے کا بدترین کلچر ہے۔
اصل میں بات یہ ہے کہ اگر کوئی اس ملک میں اس تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے محکمے میں کالی بھیڑیں نکالنے کے بجائے کچھ اقدامات کرتا ہے تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے کیونکہ جن لوگوں کے خلاف وہ ایکشن لیتا ہے تو ان لوگوں کی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوتا بلکہ اس کے خلاف ایکشن ہوجاتا ہے جو اس کلچر کو تبدیل کرنے کی خواہش کرتا ہے یا تو اس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے یا اسے معطل کردیا جاتا ہے۔
پاکستان میں آئینی لحاظ سے جمہوریت دیکھائی دیتی ہے جمہوریت میں ہر ایک کو اپنی آزادی رائے کی آزادی کا حق ہے۔ اور پولیس جسے عوام کی فلاح و بہود اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ان کو سڑکوں پر ’’ناکے‘‘ لگانے کے لیے مختلف علاقے دیے جاتے ہیں مگر ان کو کسی کی بھی عزت کرنی نہیں آتی اور نہ ہی ان کو بات آتی ہے۔ اگر کسی شخص سے یہ پولیس اہلکار کسی سے بات کرتے ہیں تو ان کو مارنے لگتے ہیں ۔ اور اس کی ایسی درگت بناتے ہیں کہ وہ بھی سوچتا ہوگا میں نے کیوں ان کو بولا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پہلے تو ان لوگوں کو لوگوں سے بات کرنے کی تربیت دینی چاہئے ، چند دنوں پہلے میرے ساتھ ہی ایک واقعہ ہوا میں اپنے ابو کو کراچی کے لیے ساتھ نمبر چھوڑ کر واپس آرہا تھا اور واپسی پر الرحیم ریسٹورینٹ کے پاس ایک پولیس کی گاڑی کھڑی ہوتی جو رات میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیے ہوتی ہے۔اس دن جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو ان لوگوں نے مجھے روک لیا اور میری ایسی تلاش لی جیسے میں کوئی دہشت گرد ہو یا کوئی مجرم انھوں نے کہا تم نے ہماری گاڑی کی طرف کیوں دیکھا۔ بس اگر یہ لعگ گاڑی کو دیکھنے پر ایسا کرسکتے ہیں تو اگر کوئی اس سے اونچی آواز میں بات کرے تو ان کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
اگر دیکھا جائے اس کلچر کو اب تک تبدیل کیوں نہیں کیا گیا تو پتہ چلتاہے کہ جب زیر تربیت پولیس اہلکار کو گالم گلوچ دی جاتی ہے۔ اور ان کی بے عزتی کی جاتی ہے۔ اور ان کو چھٹی کے لیے اپنے ہی پیٹی بند بھائی کو رشوت دینی پڑتی ہے ۔ اور جب یہ لوگ تربیت حاصل کرکے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں تو عوام کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر اس ملک میں تھانہ کلچر تبدیل کرنا ہے۔ تو سب سے پہلے پولیس والوں سے انصاف کریں اس سہولتیں دیں اگر پھر بھی ان کو سہولتیں ملنے کے باوجود قانون نے تجاوز کرے اسے نشان عبرت سنادیں ۔ اور ایسی مثال قائم کریں جس سے عوام میں پولیس کا اعتماد بحال ہو سکے۔