محمد زبیر
2k14/MC/67
حکومتِ سندھ کی وفاق پر چڑھائی
مہینوں سے جاری سندھ اور وفاق حکومت کے درمیان اختلافات جاری ہیں کبھی کسی معاملے پر سندھ حکومت ضد پکڑ لیتی ہے تو کبھی وفاق اڑ جاتا ہے مگر یہاں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وفاق صوبہ سندھ میں اپنی منمانی کر رہا ہے۔ حالانکہ 18ویں ترمیم کے بعدصوبے کو اپنے تمام تر فیصلے لینے کا حق حاصل ہے مگر نہ جانے کیوں وفاق سند ھ پر حملا آور ہو چکا ہے ۔معاملہ سندھ حکومت کے وزراء کا ہو یا رہنماؤں کی گمشدگی و گرفتاریوں کا ہو یا سندھ میں رینجرز کے حد سے زیادہ اختیار ت دینے کا یا پھر آئی ۔جی سندھ کی تعیناتی و تبادلے کا یہ دونوں ہر معاملے پر ایک دوسرے کے مخالف کھڑے نظر آتے ہیں۔پانی سے لے کر بجلی فنڈنگ سے لے کر اختیارات تک یہ دونوں کسی صورت ایک پیج پر آنے پر اتفاق نہیں کرتے۔
گذشتہ دنوں سندھ اسمبلی کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا وزیراعلی سند ھ سید مرا د علی شاہ نے اپنی تقرر میں وفاق پر چڑھائی شروع کر دی اور سندھ کے حقوق کا ایک نیا معاملہ عوام کی عدالت میں پیش کر دیا سندھ میں جا ری ایک نئے بجلی گھر کے افتتاح کے لئے سندھ کو گیس کی اشد ضرورت ہے اور وفاق ہے کہ سندھ کو گیس دینے کے حق میں نہیں ۔یہاں ایک بات ذہن نشین رکھنا لازمی ہے پاکستا ن کو 70فیصد گیس کی فراہمی کرنے والا صوبہ آج خود گیس کی طلبی کے لئے وفاق سے درخواست کر رہا ہے حالانکہ گیس پر صوبہ سندھ پر پہلا حق ہونا چاہیئے مگر اس صوبے کو ہی گیس کی فراہمی سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔
ویسے تو پاکستان میں روز سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوتا رہتا ہے کوئی کسی کا مخالف دوستی کا ہاتھ آگے بڑھتا ہے تو کسی کی دوستی ادھری رہ جاتی ہے اور ایسا ہی سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان ہوا وزیراعلی سندھ سید مراد عل شاہ نے وفاق کو براہ راست دھمکی دے ڈالی کہ اب اگر ہمیں ہمارے حقوق سے محروم رکھا گیا تو صوبے سے گزرنے والی گیس لائن بند کر دیں گئے اور سوئی سدرن کے دفتر پر دھبا بول کر وہاں کا کنٹرول سنبھال لیں گئے ۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے اس بیان کی حکومتی و اپوزیشن جماعتوں نے بھرپور حمایت لی اور اس معاملے پر وزیراعلی کے ہاتھ مضبوط کرنے کا عہد کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سیاسی اونٹ اب کس کروٹ بیٹھتا ہے کیا کوئی نئی ڈیل ہوتی ہے یا سند ھ کی غریب عوام کو وزیراعلی سندھ حقوق دلانے پر کامیاب ہوجاتے ہیں۔






