سفر چاھے چھوٹا ہو یا بڑا مگر اس سفر کے دوران آنے والی
پریشانیاں ایک طرف مگر گھر والوں سے ملنے کی خوشی ایک طرف جب میں اپنی یونیورسٹی
سے اپنے گھر، جو کہ ضلع مٹیاری میں ہے اور نیو سعیدآباد کے نام سے جانا جاتا ہے
یوں تو میں ہر ۱۵ سے ۲۰ دن میں ایک بار اپنے گھر والوں سے ملنے ضرور جاتا ہوں مگر
اس بار انتحانات کی وجہ سے تین ماہ بعد گھر جا رہا تھا اس لیے گھر جانے کی بہت بے
تابی تھی۔سفر تو میرا ڈیڑہ گھنٹے کا تھا مگر یہ لمحہ بھی کٹ نہں رہا تھا ،
حیدرآباد کے بس اسٹاپ سے جب گھر کے سفر کا دور شروع ہوا وہ آج میں یوں بیان کر رہا
ہوں۔
جب بھی حیدرآباد سے بس میں بیٹھا
تو بہت مشکل ہوی کیوں کہ
لوکل بس میں ۷۶ سیٹیں ہوتی ہیں اس کے باوجود بھی لوگ کھڑے ہو کر سفر کررہےتھے۔بس
اسٹاپ سے نکلتی ہے اور حیدرآباد ہای وے پر آجاتی ہے اس کے بعد کنڈیکٹر مسافروں سے
کرایہ وصول کرنا شروع کردیتا ہے۔میں نے کرایہ ادا کیا اور دیکھا کہ کنڈیکٹر ایک
مسافر سے بے مقصد بحث کر راہا ہے مگر میں اس بات سے حیران نا تھا کیوں کہ مجھ اس
بات کا علم تھا کہ یہ روز مرہ کا معمول تھا۔ایک مسافر نے بس میں بکری کو بھی چڑا
دیا جس کی وجہ سے مسافروں کو مشکل کا سامنہ تھا۔کنڈیکٹر صاحب جب اس شخص کے پاس
پہنچا تو اس نے اس مسافر کے ساتھ ساتھ اس بکری کا کرایہ بھی وصول کیا اور بس میں
ایک شخص مرغیاں لے کر چڑھ گیا مرغیوں کی ٹانگیں ایسے باندہ رکھی تھی جیسے انہیں
ابھی اس دنیا سے رخصت کیا جا رہا ہو اور ان کی گردنیں بس کے فرش پر رکھی تھی۔ان بکریوں
اور مرغیوں کے مالکان کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے ان لوگوں نے کوئی بڑا جرم کیا ہو۔
ان لوگوں کی وجہ سے بس میں گندگی تو بہت ہو جاتی ہے مگر اس میں ان کا قصور نہیں۔یہ
تو بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو ان افراد کو بٹھانے سے قبل سوچنا چاہیے کہ ان لوگوں
کی وجہ سے دوسرے مسافروں کو تکلیف پہنچتی ہے تو یہ ایسے لوگوں کو بس میں سوار نہ
کریں۔
ان سب حالات کے بعد بس اپنے مختلف راستے تے کرتے ہوے ضلع
مٹیاری پہنچی کچھ لوگ اسٹاپ پر اترے اور اپنے گھر کی طرف چل دیے۔ مٹیاری کی خاص
اور مشہور چیز وہاں کا ماوا ہے جو پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ بس کے باہر سے ماوا
بیچنے والے افراد زور زور سے آوازیں لگا رہے تھے "مٹیاری کا مشہور ماوا
کھایں" ۔
بس کی کھڑکی سے اپنی حیثیت کہ مطابق ان سے ماوا خرید رہے
تھے تو لوگون کی دیکھا دیکھی میں نے بھی ماوا خرید لیا۔کچھ دیر بعد بس مٹیای شہر
سے نکلی اور اگلی منزل کی طرف چل پڑی اور پھر خیبر پہنچ گی۔ مگر میں ان خیالات میں
ہی گم تھا کہ کب میرا شہر اور گھر آے۔خیبر سے نکلنےکے بعد بس بھٹ شاہ پہنچی۔
اور بھٹ
شاہ پہنچنے پر ایک الگ ہی سماہ دیکھنے کو ملتا ہے۔جب لوگ بس
سے اترتے ہیں تو چنگچی
رکشہ ایسے آتے ہیں جیسے وہ لوگوں پر ہی اتر دوڑیں گے۔ چند منٹ کے بعد ہی ہالا شہر
آجاتا ہے جسے مخدوموں کا شہر بہی کہا جاتا ہے۔
جب وہاں کے اسٹاپ پر بس رکتی ہے تو
میں ہر مرتبہ ایک ہی بات سوچتا ہوں کہ زیادہ لوگ نہ چڑہیں مگر ایسا نا ہوا جتنے
لوگ بس سے اترے تھے اس سے زیادہ ہی لوگ بس میں چڑ پڑے اور ان کے ساتھ ساتھ مختلف
چیزوں کے بیچنے والے بھی بس میں چڑ پڑے۔ہالا شہر سے نکلنےکے بعد بس دوبارہ ہائیوے پر
آگئ اب میرے اندر ایسی بیچینی داخل ہو گئ کیوں کہ ہالا میرے شہر سے ۲۰ منٹ کے
فاصلے پر تھا اب میں یہی سوچ رھا تھا کہ میں اپنے شہر میں داخل ہو جاوں اور اس بےچینی
کے عالم سے نجات پائوں پھر میں کچھ دیر بعد سعیدآباد میں داخل ہو گیا ۔ سعیدآباد
کہ بس اسٹاپ پر بس رکی اور میں خوشی خوشی اپنے گھر کو چل دیا۔

