Tuesday, 28 February 2017

سعیدآباد کا سفر







سفر چاھے چھوٹا ہو یا بڑا مگر اس سفر کے دوران آنے والی پریشانیاں ایک طرف مگر گھر والوں سے ملنے کی خوشی ایک طرف جب میں اپنی یونیورسٹی سے اپنے گھر، جو کہ ضلع مٹیاری میں ہے اور نیو سعیدآباد کے نام سے جانا جاتا ہے یوں تو میں ہر ۱۵ سے ۲۰ دن میں ایک بار اپنے گھر والوں سے ملنے ضرور جاتا ہوں مگر اس بار انتحانات کی وجہ سے تین ماہ بعد گھر جا رہا تھا اس لیے گھر جانے کی بہت بے تابی تھی۔سفر تو میرا ڈیڑہ گھنٹے کا تھا مگر یہ لمحہ بھی کٹ نہں رہا تھا ، حیدرآباد کے بس اسٹاپ سے جب گھر کے سفر کا دور شروع ہوا وہ آج میں یوں بیان کر رہا ہوں۔

جب بھی حیدرآباد سے بس میں بیٹھا 
تو بہت مشکل ہوی کیوں کہ لوکل بس میں ۷۶ سیٹیں ہوتی ہیں اس کے باوجود بھی لوگ کھڑے ہو کر سفر کررہےتھے۔بس اسٹاپ سے نکلتی ہے اور حیدرآباد ہای وے پر آجاتی ہے اس کے بعد کنڈیکٹر مسافروں سے کرایہ وصول کرنا شروع کردیتا ہے۔میں نے کرایہ ادا کیا اور دیکھا کہ کنڈیکٹر ایک مسافر سے بے مقصد بحث کر راہا ہے مگر میں اس بات سے حیران نا تھا کیوں کہ مجھ اس بات کا علم تھا کہ یہ روز مرہ کا معمول تھا۔ایک مسافر نے بس میں بکری کو بھی چڑا دیا جس کی وجہ سے مسافروں کو مشکل کا سامنہ تھا۔کنڈیکٹر صاحب جب اس شخص کے پاس پہنچا تو اس نے اس مسافر کے ساتھ ساتھ اس بکری کا کرایہ بھی وصول کیا اور بس میں ایک شخص مرغیاں لے کر چڑھ گیا مرغیوں کی ٹانگیں ایسے باندہ رکھی تھی جیسے انہیں ابھی اس دنیا سے رخصت کیا جا رہا ہو اور ان کی گردنیں بس کے فرش پر رکھی تھی۔ان بکریوں اور مرغیوں کے مالکان کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے ان لوگوں نے کوئی بڑا جرم کیا ہو۔ ان لوگوں کی وجہ سے بس میں گندگی تو بہت ہو جاتی ہے مگر اس میں ان کا قصور نہیں۔یہ تو بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو ان افراد کو بٹھانے سے قبل سوچنا چاہیے کہ ان لوگوں کی وجہ سے دوسرے مسافروں کو تکلیف پہنچتی ہے تو یہ ایسے لوگوں کو بس میں سوار نہ کریں۔

ان سب حالات کے بعد بس اپنے مختلف راستے تے کرتے ہوے ضلع مٹیاری پہنچی کچھ لوگ اسٹاپ پر اترے اور اپنے گھر کی طرف چل دیے۔ مٹیاری کی خاص اور مشہور چیز وہاں کا ماوا ہے جو پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ بس کے باہر سے ماوا بیچنے والے افراد زور زور سے آوازیں لگا رہے تھے "مٹیاری کا مشہور ماوا کھایں" ۔
بس کی کھڑکی سے اپنی حیثیت کہ مطابق ان سے ماوا خرید رہے تھے تو لوگون کی دیکھا دیکھی میں نے بھی ماوا خرید لیا۔کچھ دیر بعد بس مٹیای شہر سے نکلی اور اگلی منزل کی طرف چل پڑی اور پھر خیبر پہنچ گی۔ مگر میں ان خیالات میں ہی گم تھا کہ کب میرا شہر اور گھر آے۔خیبر سے نکلنےکے بعد بس بھٹ شاہ پہنچی۔

اور بھٹ شاہ پہنچنے پر ایک الگ ہی سماہ دیکھنے کو ملتا ہے۔جب لوگ بس 
سے اترتے ہیں تو چنگچی رکشہ ایسے آتے ہیں جیسے وہ لوگوں پر ہی اتر دوڑیں گے۔ چند منٹ کے بعد ہی ہالا شہر آجاتا ہے جسے مخدوموں کا شہر بہی کہا جاتا ہے۔


جب وہاں کے اسٹاپ پر بس رکتی ہے تو میں ہر مرتبہ ایک ہی بات سوچتا ہوں کہ زیادہ لوگ نہ چڑہیں مگر ایسا نا ہوا جتنے لوگ بس سے اترے تھے اس سے زیادہ ہی لوگ بس میں چڑ پڑے اور ان کے ساتھ ساتھ مختلف چیزوں کے بیچنے والے بھی بس میں چڑ پڑے۔ہالا شہر سے نکلنےکے بعد بس دوبارہ ہائیوے پر آگئ اب میرے اندر ایسی بیچینی داخل ہو گئ کیوں کہ ہالا میرے شہر سے ۲۰ منٹ کے فاصلے پر تھا اب میں یہی سوچ رھا تھا کہ میں اپنے شہر میں داخل ہو جاوں اور اس بےچینی کے عالم سے نجات پائوں پھر میں کچھ دیر بعد سعیدآباد میں داخل ہو گیا ۔ سعیدآباد کہ بس اسٹاپ پر بس رکی اور میں خوشی خوشی اپنے گھر کو چل دیا۔


Wednesday, 15 February 2017

پولیس تھانے کا ماحول

 پاکستان میں موجود مختلف حکومتی اداروں پر نظر ڈالی جائے تو زیادہ تر ادارے میں ایک طوفان بد انتظامی ایکھائی دیتی ہے۔چاہے وہ سرکاری تعلیمی ادارے ہوں یا عوامی فلاح وبہبود کے ادارے ان تامم اداروں میں انتہا کی کرپشناور بد انتظامی یہاں کا علمیہ بن چکا ہے ۔ اس طریقے سے ایک اور ادارہ جو بنایا تو عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کو تھا ۔ لیکن علمیہ یہ ہے کی عوام اس سے اپنی جان و مال کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور اگر بد قسمتی سے کسی موقع پر انہیں مجبوراًتھا نے کا رخؒ کرنا پڑتا ہے تو انہیں ایک خطرناک کلچر دیکھنے کی ملتی ہے۔ جو کہ تھانے کا بدترین کلچر ہے۔
اصل میں بات یہ ہے کہ اگر کوئی اس ملک میں اس تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے محکمے میں کالی بھیڑیں نکالنے کے بجائے کچھ اقدامات کرتا ہے تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے کیونکہ جن لوگوں کے خلاف وہ ایکشن لیتا ہے تو ان لوگوں کی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوتا بلکہ اس کے خلاف ایکشن ہوجاتا ہے جو اس کلچر کو تبدیل کرنے کی خواہش کرتا ہے یا تو اس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے یا اسے معطل کردیا جاتا ہے۔
پاکستان میں آئینی لحاظ سے جمہوریت دیکھائی دیتی ہے جمہوریت میں ہر ایک کو اپنی آزادی رائے کی آزادی کا حق ہے۔ اور پولیس جسے عوام کی فلاح و بہود اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ان کو سڑکوں پر ’’ناکے‘‘ لگانے کے لیے مختلف علاقے دیے جاتے ہیں مگر ان کو کسی کی بھی عزت کرنی نہیں آتی اور نہ ہی ان کو بات آتی ہے۔ اگر کسی شخص سے یہ پولیس اہلکار کسی سے بات کرتے ہیں تو ان کو مارنے لگتے ہیں ۔ اور اس کی ایسی درگت بناتے ہیں کہ وہ بھی سوچتا ہوگا میں نے کیوں ان کو بولا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پہلے تو ان لوگوں کو لوگوں سے بات کرنے کی تربیت دینی چاہئے ، چند دنوں پہلے میرے ساتھ ہی ایک واقعہ ہوا میں اپنے ابو کو کراچی کے لیے ساتھ نمبر چھوڑ کر واپس آرہا تھا اور واپسی پر الرحیم ریسٹورینٹ کے پاس ایک پولیس کی گاڑی کھڑی ہوتی جو رات میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیے ہوتی ہے۔اس دن جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو ان لوگوں نے مجھے روک لیا اور میری ایسی تلاش لی جیسے میں کوئی دہشت گرد ہو یا کوئی مجرم انھوں نے کہا تم نے ہماری گاڑی کی طرف کیوں دیکھا۔ بس اگر یہ لعگ گاڑی کو دیکھنے پر ایسا کرسکتے ہیں تو اگر کوئی اس سے اونچی آواز میں بات کرے تو ان کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
اگر دیکھا جائے اس کلچر کو اب تک تبدیل کیوں نہیں کیا گیا تو پتہ چلتاہے کہ جب زیر تربیت پولیس اہلکار کو گالم گلوچ دی جاتی ہے۔ اور ان کی بے عزتی کی جاتی ہے۔ اور ان کو چھٹی کے لیے اپنے ہی پیٹی بند بھائی کو رشوت دینی پڑتی ہے ۔ اور جب یہ لوگ تربیت حاصل کرکے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں تو عوام کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر اس ملک میں تھانہ کلچر تبدیل کرنا ہے۔ تو سب سے پہلے پولیس والوں سے انصاف کریں اس سہولتیں دیں اگر پھر بھی ان کو سہولتیں ملنے کے باوجود قانون نے تجاوز کرے اسے نشان عبرت سنادیں ۔ اور ایسی مثال قائم کریں جس سے عوام میں پولیس کا اعتماد بحال ہو سکے۔